تعارف مئولف
حضرت جمال جلوہ نما خواجہ سلطان محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی دامت برکاتہم العالیہ
بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی الہ واصحابہ اجمعین
اللہ کی زمین پر انسانوں کے متلاطم سمندر میں خواہشات ومکروہات کے طوفان ہیں۔ جن میں پھنسی ہوئی کشتیوں کو کنارے لگانے کے لئے اہل ہمت کا ایک طائفہ مشیت ایزدی کے اشارے کا منتظر رہتا ہے۔ اسباب و علل کے اس جہان بو قلموں میں اولیاء کرام اس کیمقرب وپسندیدہ ہیں۔ اس کے یہ چاہنے والے اپنی چاہتوں کو مٹاکر اسے چاہتےہیں اور ان کو بطور انعام دھرتی پر حسن کا نمائندہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ یہی وہ بوریانشینان بے نواہیں جنکے در پر شہنشاہ بھی گدا گربن کر آتے ہیں۔ خواص وعوام گلہائے مراد سے جھولیاں بھرتے ہیں۔یہ گل توحید کی مہک ہے۔جو جمنستان دہرکی ہرروش کو مہکا دیتے ہیں۔ کتنی بار ان کے مقدس دامنوں پر دنیا پرستوں نے اپنے گناہوں کی سیاہی لگانے کی کوشش کی مگر بلند وبالا ہستیوں کے تقدس کو مکدر نہ کرسکے وہ بلند مرتبہ کیوں نہ پائیں کہ آخر دوستی کس ذات سے لگائی ہے۔ خالق ارض وسماء نے اپنے ان بندوں کے ناز اٹھائےاور انہیں اپنے راز کا محرم بنایا۔کثرتوں کے جھمیلوں میں بھی انہیں اپنی وحدت کا پھول سنگھایاانکے دلوں کو اپنے خرام حسن کی گزرگاہ بنایا۔ ایسے صاحب دل اور باکمال انسانوں میں سے ایک عظیم ہستی میرے پیرومرشد حضرت جمال جلوہ نما خواجہ سلطان محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی مدظلٰہ العالٰی کی ہے۔ آپ ایک ولی کامل صوفی باصفا، عارف حق آشنا، داعی رب العلا، عاشق جلوہ نماء ہیں۔
بندہ ناچیز اکثر آستانہ عالیہ کوٹ رادھاکشن میں دست بوسی کے لئے حاضری دیتا ہے۔ ایک دن خیال گزرا کہ حضور قبلٰہ عالم سے آپ کی ولادت باسعادت اور بیعت کے متعلق آپ کی زبان مبارک سے کچھ سنا جائے۔ جب میں نے اس بارے میں عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک دفعہ میں گھر میں بیٹھا شجرہ شریف پڑھ رہا تھا قریب ہی والد محترم تشریف فرما تھے۔ والد محترم نے فرمایا بیٹا کیا پڑھ رہے ہو؟ تو میں نے عرض کیا کہ ابا جان شجرہ شریف پڑھ رہا ہوں تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا شجرہ شریف میں ان بزرگوں کا پتہ لکھا ہے۔ تو میں نے جوابا عرض کیا ہاں ہے۔تو آپ مسکرائے اور فرمایا میں نے آپ کے بزرگوں کے بڑے کمالات دیکھے ہیں۔
میں ملٹری پولیس میں تھا اور وائسرائے ہند جو کہ انگریز تھا اس کے ساتھ میری ڈیوٹی تھی۔ میں اکثر پٹنہ شہر میں آپ کے سلسلہ عالیہ کے بزرگوں کے سالانہ عرس پر حاضری دیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وائسرائے ہند کے ساتھ ہم عرس پر گئے محفل سماع شروع تھی ایک آدمی وجدانی کیفیت میں اچھل کر ساتھ ہی واقع کنویں میں گر گیا۔ تو میں نے ان بزرگوں سے عرض کیا حضور آپ کا مرید کنویں میں گر پڑا ہے۔تو آپ نے فرمایا قوالوں سے کہو کہ کلام جاری رکھیں۔ کلام جاری رہا اور چند ہی منٹوں میں وہ مرید کنویں سے اچھل کر بزرگوں کے قدموں میں آگرا۔ وائسرائے کے لئے یہ ایک انتہائی حیران کن لمحہ تھا مگر شمع رسالت کے پروانوں کیلئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ کیونکہ بزرگوں سے اکثر ایسا دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔
والد محترم نے فرمایا کی بھاگل پور قاضی ملا چک صوبہ بہار میں سید امداد علی شاہ کے سجادہ نشین کے پاس میں اکثر حاضری دیا کرتا تھا۔ آپ ایسے جلیل القدر بزرگ تھے کہ ان جیسا کوئی میری نظر سے نہیں گزرا۔ ایک روز میں انکی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا تو میں نے عرض کیا سرکار کافی عرصہ گزرچکا ہے مگر اولاد نہیں ہوئی۔ تو آپ نے فرمایا گھبراو نہیں اللہ کرم فرمائے گا میں نے عرض کیا حضور اب تو بال بھی سفید ہوچکے ہیں کب کرم نوازی ہوگئی جب میں نے باربار اصرار کیا تو آپ نے انتہائی مہربانی سے فرمایا جاو اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے پانچ بچے عنایت فرمائے گا جن میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہوں گئی اور ان کو کوئی مرد حق مل جائے گا۔
حضور قبلہ عالم فرماتے ہیں ان بزرگوں کے فرمان کے مطابق ہم تین بھائی اور دو بہنیں پیدا ہوئے۔ حضور قبلہ عالم کی ولادت باسعادت 1935 میں ملا چک ضلع بھاگل پور صوبہ بہار میں ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے والد محترم میاں محمد یٰسین قادریہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انتہائی نیک سیرت عبادت گزار اور اکثر شب بیداری فرمانے والے تھے انکی یہ عادت شریفہ تھی کہ لوگوں کو چیزیں عنایت فرماتے رہتے۔ اپنے حق کا کبھی تقاضا نہ فرماتے بلکہ اگر کسی نے آپکو حق دیا تو آپ نے اپنا حق بھی نہ لیا۔
حضور قبلہ عالم نے ارشاد فرمایا کہ والدہ محترمہ انتہائی رحمدل،پارسا عبادت گزار بچوں سے بہت پیار اور شفقت کا برتاو کرتی تھیں آپ سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب والد محترم کے وصال کا وقت قریب ہوا تو ہم نے عرض کیا ابا جان ہماری خطائیں معاف فرمادیں تو انہوں نے فرمایا جو لوگ ہیاں رحم کریں گے اور یہاں معاف کریں گے ان پر وہاں رحم کیا جائے گا۔ پھر فرمایا میں نے آپ کو معاف کیا اور ان تمام لوگوں کو بھی معاف کیا جنہوں نے مجھے تنگ کیا۔ اس کے بعد آپکی زبان پر کلم توحید جاری ہو گیا اور آپکی روح مبارک قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
آپ نے یکم جنوری 1975 کو وصال فرمایا سیدی و مرشدی جمال جلوہ نما خواجہ سلطان محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی مدظلٰہ العالٰی نے اپنی بیعت کے متعلق ان الفاظ میں وضاحت فرمائی 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو ہم ہیاں آگئے 1956میں پاکستان آرمی آرمڈ کورگیارہ نمبر رسالہ میں سوار رینک کی حثیت سے بھرتی ہوا۔1959 میں بڑے بھائی واجد علی نے تمام گھر والوں کو سیدنا غلام محمد شاہ صاحب جلوہ نماء اولیاء کے دست حق پرست پر بیعت کروادیا۔ سیدنا غلام محمد شاہ جلوہ نما اولیاء کا آستانہ عالیہ سیٹلائیٹ ٹاون راولپنڈی میں ہے ایک دفعہ حضرت مستان شاہ اور جلوہ نماء سرکار پتوکی میں تشریف فرما تھے بھائی واجد علی مجھے آپ کے پاس لے گئے اور عرض کی حضور یہ میرے بھائی ہیں انہیں غلامی میں داخل فرما لیں۔ تو جلوہ نماء اولیاء سرکار نے مجھے سر سے پاوں تک دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاو اور آپ نے میرے ہاتھ اپنے دست اقدس میں لے کر فرمایا مضبوطی سے پکڑلو۔جب میں نے مضبوطی سے آپ کا دست اقدس پکڑلیا تو آپ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اور مضبوطی سے پکڑو۔جب میں نے پورے زور سے آپکا دست اقدس پکڑلیا تو میں نے محسوس کیا کہ کوئی چیز میرے ہاتھوں میں سرایت کررہی ہے۔ اسکے بعد مجھے ہوش نہیں رہا۔ جب ہوش آیا تو آپ کا دست شفقت میرے کندھوں پر تھا اور میں رو رہا تھا۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ جب حضور آپ کو بیعت فرمارہے تھے تو آپ اچھل اچھل کر زمین پر گر رہے تھے۔
برگزیدہ ہستیوں نے آپکی کاملیت کی تائید کی۔
حضرت قبلہ عالم نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا۔
جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد پاک ہے۔ جسے میں مخلوق میں چن لیتا ہوں اس سے پہلے اس کے پیچھے حاسدوں کی جماعت لگا دیتا ہوں۔ سردار عمر حیات جو کہ میرے پیرومرشد جلوہ نماسرکار کے غلام تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ سلسلہ عالیہ میں چند معتبر ہستیاں آپ کی زوروشور سے مخالفت کررہی ہیں۔میں نے کہا اللہ انہیں ہدایت دے۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اس کے بعد دوسرے موقعہ پر بتایا کہ مخالفین نے آپ کے خلاف مزید باتیں بنائیں اور میں سن کر بے چین ہوگیا عشاء کی نماز پڑھی اور سو گیا۔ خواب میں دیکھا مین ٹریکٹر لے کر اپنے کھیتوں میں جارہا ہوں۔ اچانک ایک درخت پر بجلی گری اور درخت بیچ میں سے پھٹ کر گر گیا۔ مجھے خوف طاری ہوا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا ایک خوبصورت مسجد نظر آئی اور میں وہاں سے مسجد کی طرف بھاگا۔ جب دروازے میں داخل ہوا تو سامنے دیکھتا ہوں کہ آپ اور میرے پیرومرشد کھٹرے ہیں اور تمام مخالفین آپ کے سامنے قطار میں کھٹرے ہیں۔
مسجد کی محراب میں میری نظر پڑی تو اتنی چمک پڑی میری آنکھیں بند ہوگئیں۔ دوبارہ دیکھا تو چمکدار ہاتھ پر نظر پڑی ایک بزرگ آپ کے سامنے کھٹرے نظر آئے ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور فرمارہے تھے کہ اس تلوار سے میں نے خیبر کا قلعہ فتح کیا تھا۔ اور آپ نے فرمایا میں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوں اور جب مین نے مخالفین کی طرف دیکھا تو سب کی گردنیں کٹی پڑی تھیں آپ اور پیرومرشددونوں کھٹرے تھے، آپ کی طرف اس تلوار کے اشارے سے فرمارہے تھے کہ یہ حق ہے ایوب یہ حق ہے یہ حق ہے، اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔ پھر مین ان مخالفین کے پاس گیا اور انہیں یہ خواب سنایا انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا اور فرمایا کہ مالک اگر کوئی چیز دیکھا دے تو بتایا نہیں کرتے ورنہ نقصان ہو جاتا ہے اور میں ڈر گیا اور پھر میں راولپنڈی پیرومرشد کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہوا لیکن مجھے کسی نے داخل نہیں ہونے دیا اور کہنے لگے تم صوفی محمد ایوب جلوہ نمائی کے پاس سے آئے ہو، میں نے جواب دیا ہاں اور میں قبلہ عالم کی قدم بوسی کیلئے حاضر ہوا ہوں اور مجھے آپ کے پاس نہیں جانے دیا اور کہنے لگے کہ قبلہ عالم کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور آپ کے خلاف باتیں بناتے رہے اور میری کوئی بات نہ سنی آخر کار میں بادل ناخواستہ واپس چلا آیا، عشاء کی نماز پڑھ کر اسی بے چینی میں مجھے نیند آگئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ میرے سامنے تشریف فرماہیں اور مجھ سے دریافت فرما رہے ہیں کہ اے عمر حیات کیا تو مجھے جانتا ہے اور تو اتنا پریشان کیوں ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضور میں آپ کو نہیں جانتا۔ تو آپ نے فرمایا میں بو علی قلندر ہوں اور تم ایسا کرو صوفی محمد ایوب جلوہ نمائی کے پاس جاو اور انہیں کیہ دوکہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہم تمھارے ساتھ ہیں مخالفین تمہاراکچھ نہیں بگاڑ سکتے آپ نے تین مرتبہ ہ یہ ہی الفاظ دہرائے اور میں نیند سے بیدار ہوگیا۔
کچھ دن بعد بڑی گیارہویں شریف کے موقع پر حاضر ہوا پھر بھی یہی چرچے سنے اور مسجد میں بھی ایک مولانا نے آپ کے خلاف تقریر کی۔ عرض کہ ہر جگہ آپ کے خلاف یہ باتیں ہورہی تھیں اور پھر وہاں ایک شور برپا ہوا کہ ایک صاحب کی قطبیت کا اعلان ہوا جو کہ وہ بھی آپ کے مخالفوں میں شامل تھے اس کے بعد عرس ختم ہوگیا اور سب بھائیوں کو اجازت ہوگئی سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ بعد از نماز عشاء دونفل کفارے کے ادا کرکے سوگیا خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت ہی عالیشان محل ہے محل میں دیکھا کہ ایک تخت پر میرے پیرومرشد جلوہ نما سرکار جلوہ افروز ہیں۔ دیکھا کہ صوفی محمد ایوب صاحب بھی وہاں بیٹھے ہیں میں بھی محل میں چلا گیا اور قدم بوسی کی۔ آپ نے فرمایا! کہ اے عمر حیات یہ محل میرے بیٹے ایوب جلوہ نمائی کا ہے سامنے دیکھا تو ایک برزگ فرمارہے ہیں کہ اے عمر حیات تم مجھے جانتے ہو۔ میں نے عرض کی حضور میں آپ کو نہیں جانتا۔ تو آپ نے فرمایا میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی ہوں۔ صوفی محمد ایوب جلوہ نمائی کی طرف تین مرتیہ اشارہ کرکے فرمایا تم ان سے میٹھا میٹھا پیار کیا کرو کیونکہ تم کو ان سے فیض ہے پھر میرے پیرومرشد نے فرمایا عمر حیات وہ رجسٹر اٹھا لاو تو میں نے دیکھا بہت بڑا رجسٹر تھا جس پر لکھا ہوا تھا سلسلہ عالٰیہ قادریہ اور اس میں سب سے اوپر صوفی محمد ایوب جلوہ نمائی لکھا ہواتھا اور ساتھ یہ قطب قیوم زماں رحمتہ اللہ علیہ لکھا ہوا تھا اور اس پر میرے پیرومرشد نے دستخط فرمائے اور اس کے بعد وہاں مٹھائی تقسیم ہوئی جب ہم مٹھائی لے چکے تو ایک شخص آیا جسے میں نہیں جانتا تھا ایک پلیٹ میں ایک رقعہ رکھا ہوا تھا جس پر 1300 روپے کا بل بنا ہوا تھا۔ آپ نے جیب سے 1300 روپے نکالے اور اسے دے دیئے میں نے سوچا کہ آدمی صرف تین ہیں اور مٹھائی کا بل 1300 روپے کا تھا یہ کہاں تقسیم ہوئی، جب میں نے یہ خیال کیا تو میرے پیرومرشد نے فرمایا کہ مخلوق بہت ہے جسے تم نہیں دیکھ سکتے اس کے بعد میں نیند سے بیدار ہوگیا۔
تُندی باد مخالف سے نہ گھبرااے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
(ادنٰی غلام عمر حیات بی اے۔اٹھار)
حضور قبلٰہ عالم کو اپنے پیرومرشد کے ساتھ والہانہ عقیدت اور بے پناہ عشق ہے جسکا اظہار اکثرو پیشتر ہوتا رہتا ہے۔ جب بھی آپ اپنے پیرومرشد کا ذکر فرمانے لگتے ہیں تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ میری زبان اس لائق نہیں کہ میں اپنے پیرومرشد کی کماحقہ، تعریف بیان کرسکوں کیونکہ آپکی ذات اقدس جامع صفات اور سراپا کرامات تھی۔آپکا شمار کاملین اولیاء میں ہوتا رہتا ہے امراء وزراء غرباء سب کے ساتھ یکساں سلوک فرماتے۔ آپکو شہرت پسند نہ تھی۔ کیونکہ درویشی گوشہ نشینی ہے۔
بلند ہے ولیوں میں یا جلوہ نماء بارگاہ تیری
رہیں گے چومتے چوکھٹ شاہ و گداوایوب تیری
حضور قبلٰہ عالم بسااوقات اپنے پیرومرشد کے چشمہ علم وعرفان سے سیراب ہونے اور فیوض وبرکات اپنے دامن میں سمیٹنےکے متعلق ذکر فرماتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اسرارحقیقت اور رموزشریعت کے اعلٰی وارفع مقام پر فائز ہیں اور اپنے پیرومرشدکی اجازت سے انکے مشن یعنی سلسلہ عالٰیہ قادریہ، ابوالعلائیہ، چشتیہ، سہروردیہ، جہانگیریہ، جلوہ نمائیہ کی تبلیغ وترویج کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آپکا شجرہ طریقت اکتالیس واسطوں سے رحمتہ اللعلٰمین، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، مالک کون ومکان حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والیہ وسلم تک پہنچتا ہے کثیر تعداد آپکے دست حق پرست پر بیعت ہوچکی ہے اور منازل سلوک طے کرنے پر گامزن ہے آپکی اکثر و پیشتر یہی تعلیم ہوئی ہے کہ مادہ پرستی، دولت دنیا کی حرص دنیوی خوشحالی پر فخر اور نمودونمائش انسان کے لئے گمراہی اور تباہی کا سبب ہے اپنا دھیان اللہ کی طرف رکھو اور اسی پر بھروسہ کرو۔ آستانہ عالیہ پر آنے والے توحید حق کی مئے سے سیراب ہو کر جاتے ہیں آستانیہ عالیہ پر ہر جمعرات اور اتوار کو محفل ذکر اور بزرگوں کے سالانہ عرس منعقد کئے جاتے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں یہی دعا کرتا ہوں کہ الٰہی میرے پیرومرشد کے آستانہ عالیہ قادریہ، ابولعلائیہ، چشتیہ، سہروردیہ، جہانگیریہ، جلوہ نمائیہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرما اور قیامت تک راہ حق کے مسافر قرب خداوندی سے فیض یاب ہوتے رہیں۔
(آمین)
بن مانگے دیا اور اتنا دیا
دامن میں ہمارے سمایا نہیں
ادنٰی غلام
محموداحمد ایوبی قادری (ایم اے اسلامیات)





















